ڈونلڈ ٹرمپ کی ٹیم نے کانگریس میں شکست کی صورت میں متبادل حکمتِ عملی تیار کر لی

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی وائٹ ہاؤس ٹیم نے اس امکان کے لیے کئی ماہ سے تیاری کی ہے کہ وسط مدتی انتخابات کے بعد ڈیموکریٹس کانگریس کا کنٹرول سنبھال لیں۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق حکام نے صدر کے ایجنڈے کو کانگریس کی منظوری کے بغیر آگے بڑھانے کے لیے انتظامی اقدامات کی فہرست بنائی ہے، جبکہ ممکنہ تحقیقات کے لیے بھی تیاریاں جاری ہیں۔
وائٹ ہاؤس کے ایک عہدیدار اور منصوبے سے واقف دو افراد کے مطابق نائب چیف آف اسٹاف اسٹیفن ملر اور بجٹ ڈائریکٹر رسل ووٹ سمیت سینئر حکام اپریل سے وائٹ ہاؤس کے قانونی دفتر کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔ ان کی توجہ امیگریشن، محصولات، رہائشی اخراجات اور وفاقی حکومتی خرچ جیسے موضوعات پر ایسے صدارتی اقدامات کی نشاندہی پر ہے جو کانگریس کی منظوری کے بغیر کیے جا سکیں۔
رائٹرز کے مطابق وائٹ ہاؤس کے وکیل ول شیرف اور ان کی ٹیم یہ بھی دیکھ رہی ہے کہ ٹرمپ اپنے اختیار کے تحت قانونی طور پر کیا کر سکتے ہیں، کہاں تک اس اختیار کو آگے بڑھایا جا سکتا ہے اور ممکنہ عدالتی چیلنجز کا دفاع کیسے کیا جائے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ڈیموکریٹس کو ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ میں اکثریت حاصل ہونے کی صورت میں صدر کی تحقیقات، قانون سازی روکنے اور اخراجات سے متعلق ترجیحات محدود کرنے کی صلاحیت بڑھ جائے گی۔
ٹرمپ نے نیویارک پوسٹ کے پوڈکاسٹ سے گفتگو میں کہا کہ اگر ریپبلکن کانگریس کا کنٹرول کھو دیں تو وہ کچھ عرصے تک ویٹو استعمال کر سکتے ہیں، بعد میں ڈیموکریٹس کے ساتھ سمجھوتے بھی ممکن ہیں۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان لارین بِس نے اس دوران کہا کہ انتظامیہ سرحدی تحفظ اور قانون کی حکمرانی جیسے اپنے اہداف جاری رکھے گی۔
رپورٹ کے مطابق زیرِ غور اختیارات میں اہم معدنیات اور ونڈ ٹربائنز کی درآمد پر نئے محصولات اور بین الاقوامی طلبہ کے ویزوں کے ضوابط سخت کرنے جیسے اقدامات شامل ہیں۔
ذریعہ ↗