کیتھرین مڈلٹن نے بیماری کے مشکل دور میں فطرت سے ملنے والے سکون کا ذکر کر دیا

شہزادی آف ویلز کیتھرین مڈلٹن نے ایک نایاب عوامی ملاقات کے دوران اپنی صحت کے مشکل تجربے اور فطرت سے ملنے والے اطمینان پر بات کی۔ برطانوی میڈیا کے مطابق، لندن کے قریب پینسفورڈ فیلڈ میں ڈوز آف نیچر نامی خیراتی ادارے سے ملاقات کے موقع پر شہزادی نے ایک رضاکار سے گفتگو میں بتایا کہ فطرت سے تعلق ان کے لیے بھی شفا بخش محسوس ہوا۔
ادارے کا کام لوگوں کو فطرت کے ساتھ وقت گزارنے کے ذریعے بہتر محسوس کرنے میں مدد دینا ہے۔ اس ملاقات میں اس کی بانی ڈاکٹر ایلیسن گرین وُڈ، کلینیکل سربراہ ڈاکٹر جارجینا گولڈ اور ٹیم کے دیگر ارکان موجود تھے۔ گفتگو میں ایک رضاکار نے اپنے تجربے کا ذکر کیا تو شہزادی نے کہا کہ دونوں کے سفر مختلف رہے، لیکن یہ سن کر خوشی ہوئی کہ فطرت سے تعلق اس شخص کے لیے کتنا مددگار ثابت ہوا؛ انہوں نے اپنے بارے میں بھی کہا کہ انہیں ایسا ہی احساس ہوا۔
کیتھرین نے مزید کہا کہ کمیونٹی کے لوگوں کو مقصد، وابستگی اور تعلق کا احساس دلانے میں ادارے کا کردار اہم ہے۔ ان کے مطابق مستقبل کے بارے میں بے یقینی اور زندگی پر اختیار نہ ہونے کے باوجود، باہمی تعلق کا احساس انسان کو حالات کا سامنا کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔ انہوں نے اس تجربے کو ایسی کیفیت قرار دیا جو دیرپا اور ہمہ جہت معنی رکھتی ہے۔
شہزادی نے اس گفتگو میں اپنی بیماری کی طبی تفصیلات یا علاج کے بارے میں نئی معلومات نہیں دیں۔ ان کی بات کا محور یہ تھا کہ فطرت سے وابستگی اور کمیونٹی کا احساس مشکل وقت میں لوگوں کے لیے سہارا بن سکتے ہیں۔ یہ دورہ ایسے ادارے کے کام کو نمایاں کرنے کا موقع بھی بنا جو فطرت کے ساتھ رابطے کو ذہنی فلاح کے لیے اہم سمجھتا ہے۔
ذریعہ ↗