تھامس مارکل پر بچوں کے جنسی استحصال کی تصاویر رکھنے کا الزام، فلوریڈا سے گرفتار

میگھن مارکل کے والد تھامس مارکل کو فلوریڈا میں وفاقی حکام نے بچوں کے جنسی استحصال سے متعلق مواد رکھنے کے الزام میں گرفتار کیا ہے۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق 82 سالہ مارکل پر کیلیفورنیا کے علاقے لاس اینجلس میں کرائے پر لیے گئے ذخیرہ گاہوں سے برآمد ہونے والی تصاویر اور دیگر مواد سے متعلق ایک الزام عائد کیا گیا ہے۔ جرم ثابت ہونے کی صورت میں انہیں 20 سال تک قید ہو سکتی ہے۔
امریکی محکمۂ انصاف کے مطابق مارکل جمعے کو وفاقی ایجنٹوں کی تحویل میں لیے گئے۔ ایف بی آئی کے ڈائریکٹر کاش پٹیل نے بیان میں کہا کہ حکام کے مطابق معاملے میں بچوں کو نشانہ بنایا گیا۔ تاہم مقدمے میں ابھی کوئی حتمی عدالتی فیصلہ نہیں ہوا، اور مارکل نے ابتدائی پیشی پر کوئی اقرارِ جرم نہیں کیا۔
لاس اینجلس کی وفاقی عدالت میں جمع کرائی گئی شکایت کے مطابق تفتیش کاروں نے گزشتہ ہفتے عدالتی وارنٹ کے بعد دو ذخیرہ گاہوں کی تلاشی لی۔ ایف بی آئی کے حلف نامے میں کہا گیا ہے کہ وہاں سے تقریباً 78 اشیا قبضے میں لی گئیں، جن میں سلائیڈز، فلم نیگیٹو اور کتابیں شامل تھیں۔ دستاویز میں بعض تصاویر کے بارے میں ایک گواہ کی شناخت کا ذکر ہے؛ یہ تفصیل حکام کے الزامات کا حصہ ہے، ثابت شدہ عدالتی نتیجہ نہیں۔
مارکل نے فلوریڈا کے شہر ٹمپا میں مجسٹریٹ جج کے سامنے ابتدائی پیشی دی۔ عدالت نے انہیں مقدمے کی سماعت تک گھر میں نظر بندی اور الیکٹرانک نگرانی کی شرائط پر رہا کرنے کا حکم دیا۔ فردِ جرم پر باقاعدہ جواب دہی کی تاریخ کئی ہفتوں بعد متوقع ہے، جبکہ یہ بھی واضح نہیں کہ انہیں مقدمے کے لیے کب کیلیفورنیا منتقل کیا جائے گا۔
رائٹرز کے مطابق مارکل کے وکیل کی شناخت فوری طور پر معلوم نہیں ہو سکی۔ بکنگھم پیلس اور میگھن مارکل کے ترجمان نے تبصرے کی درخواستوں کا جواب نہیں دیا۔ خبر میں یہ بھی بتایا گیا کہ فلپائن اور برطانیہ میں اس سے متعلق الزامات کی الگ تحقیقات یا حوالہ دینے کے اقدامات ہوئے ہیں۔
ذریعہ ↗