کلیرنس تھامس اور سیموئل الیٹو کی ممکنہ ریٹائرمنٹ پر نئی بحث

Clarence Thomas
امریکی سینیٹ میں ڈیموکریٹس کی کامیابی کے بعد سپریم کورٹ کے دو قدامت پسند ججوں، کلیرنس تھامس اور سیموئل الیٹو، کے مستقبل اور عدالت میں قدامت پسند اکثریت برقرار رہنے سے متعلق سوالات دوبارہ زیرِ بحث آ گئے ہیں۔ خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ڈیموکریٹس جنوری سے کانگریس کا کنٹرول سنبھالیں گے، جس کے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سپریم کورٹ میں کسی ممکنہ خالی نشست کے لیے نامزد امیدوار کی توثیق روکنے کی پوزیشن میں ہوں گے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ تھامس، جن کی عمر 78 سال ہے، نے عوامی سطح پر عہدہ چھوڑنے کا کوئی اشارہ نہیں دیا۔ 76 سالہ الیٹو نے گزشتہ ماہ کہا تھا کہ وہ موجودہ عدالتی مدت مکمل کریں گے، جو اکتوبر میں شروع ہوئی۔ دونوں ججوں نے ریٹائرمنٹ کے امکان سے متعلق روئٹرز کے سوالات کا فوری جواب نہیں دیا۔ تھامس اور الیٹو عدالت کے سب سے قدامت پسند ججوں میں شمار ہوتے ہیں اور اہم فیصلوں میں ٹرمپ کی پالیسیوں کی حمایت کرتے رہے ہیں۔ سپریم کورٹ میں قدامت پسند ججوں کو 6-3 کی اکثریت حاصل ہے، جس نے اسقاطِ حمل، اسلحے کے حقوق اور صدارتی اختیارات سمیت متعدد معاملات پر امریکی قانون کی سمت پر اثر ڈالا ہے۔ اس اکثریت میں ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت میں نامزد کیے گئے تین جج بھی شامل ہیں۔ الیٹو کے موجودہ عدالتی مدت تک کام جاری رکھنے کے بیان کے بعد بھی فوری ریٹائرمنٹ سے متعلق قیاس آرائیاں سامنے آئیں۔ بعض قدامت پسند مبصرین کے خیال میں جلد سبکدوشی سے ٹرمپ کو ریپبلکن سینیٹ کے دور میں جانشین مقرر کرانے کا موقع مل سکتا ہے، تاہم رپورٹ کے مطابق وقت کی کمی اور دیگر قانون سازی کی ترجیحات اس عمل کو مشکل بنا سکتی ہیں۔ امریکی آئین کے تحت سپریم کورٹ کے ججوں کی نامزدگیوں کی منظوری سینیٹ کا اختیار ہے۔ روئٹرز کی رپورٹ کے مطابق قانونی ماہرین نے فوری طور پر کسی جج کے جانے کے امکان کو غیر یقینی قرار دیا ہے؛ جج عموماً ریٹائرمنٹ کے فیصلے میں صدر اور سینیٹ کی سیاسی صورتِ حال پر غور کرتے ہیں، لیکن اپنے ارادوں کو پہلے سے ظاہر نہیں کرتے۔
ذریعہ ↗